ہم خوابوں کے بیوپاری تھے پر اس میں ہوا نقصان بڑا کچھ بخت میں ڈھیروں کا لک تھی کچھ اب کے غضب کا کال پڑا راکھ لیے جھولی میں اور سر پر ساہوکار کھڑا جب بستی صحرا صحرا تھی ہم دریا دریا روئے تھے جب ہاتھ کی ریکھا ئیں چپ تھیں اور سر سنگیت میں کھوئے تھے تب ہم نے جیون کھیتی میں کچھ خواب انو کھے بوئے تھے جب فضل کئی تو کیا دیکھا کچھ زخمی خواب تھے آنکھوں میں کچھ درد کے ٹوٹے گجرے تھے ہم خوابوں کے بیوپاری تھے پر اس میں ہوا نقصان بڑا ~ عبداللہ (دوم)